note: I am also gonna write urdu poetry here as well
اس چور بازاری میں
لوگوں کی غداری دیکھی
پیسے کو مانیں ان داتا
رشوت جیسی بیماری دیکھی
دنیا داری میں مگن
لوگوں کی خونخواری دیکھی
بےحسی،بےضمیری دیکھی
لاچاری اور غریبی دیکھی
اس دنیا کے بازار میں
ہر سو ، ہر ادوار میں
سمجھ نہ آئے بات یہ
کیسے کٹے گی رات یہ
اندھیر نگری اور ظلم ہے چھایا
اس زندگی میں کیا ہے کمایا
انگلی اٹھا کے الزام لگایا
اپنا آپ اسی میں گنوایا
پیسہ، پیسہ اور پیسہ ہی کمایا
دنیا میں اپنا جیون ہے گنوایا
جس نے ہمیں صحیح رستہ دکھایا
ہم نے اسے دھتکار بھگایا
دل پہ جو ہے قفل لگایا
نیکی کا رستہ پھر کبھی نہ بھایا
آخر میں بس اب یہی کہوں گا
اللہ کیلئے ہی لڑوں گا
چاہے طوفان ہو اب راہوں میں
حق ہی رہے گا ان سانسوں میں
ٹکرا جاؤں گا میں اب سب سے
وعدہ ہے میرا، اب رب سے
note: I am also write urdu poetry here as well
