Cherreads

Chapter 8 - دنیا اک گورکھ دھندہ

note: I am also gonna write urdu poetry here as well

اس چور بازاری میں

لوگوں کی غداری دیکھی

پیسے کو مانیں ان داتا

رشوت جیسی بیماری دیکھی

دنیا داری میں مگن

لوگوں کی خونخواری دیکھی

بےحسی،بےضمیری دیکھی

لاچاری اور غریبی دیکھی

اس دنیا کے بازار میں

ہر سو ، ہر ادوار میں

سمجھ نہ آئے بات یہ

کیسے کٹے گی رات یہ

اندھیر نگری اور ظلم ہے چھایا

اس زندگی میں کیا ہے کمایا

انگلی اٹھا کے الزام لگایا

اپنا آپ اسی میں گنوایا

پیسہ، پیسہ اور پیسہ ہی کمایا

دنیا میں اپنا جیون ہے گنوایا

جس نے ہمیں صحیح رستہ دکھایا

ہم نے اسے دھتکار بھگایا

دل پہ جو ہے قفل لگایا

نیکی کا رستہ پھر کبھی نہ بھایا

آخر میں بس اب یہی کہوں گا

اللہ کیلئے ہی لڑوں گا

چاہے طوفان ہو اب راہوں میں

حق ہی رہے گا ان سانسوں میں

ٹکرا جاؤں گا میں اب سب سے

وعدہ ہے میرا، اب رب سے

note: I am also write urdu poetry here as well

More Chapters